7 اپریل 2011 - 19:30

سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس کا سابق مصری صدر حسنی مبارک کے ساتھ نہ تو کسی قسم کا رابطہ ہے اور نہ ہی انکے خلاف مقدمات قائم نہ کرنے پر دباؤ ڈال رہا ہے / حسنی مبارک کو بچانےکے لئے 4 ارب ڈالرز رشوت کی سعودی پیشکش۔

ابنا: روزنامہ جنگ نے مصر میں سعودی عرب کے نئے سفیر احمد عبدالعزیز قطان کے حوالے سے لکھا ہے کہ انھوں نے ایک مصری اخبار کو دئیے گئے انٹرویو میں ان خبروں پر شدید حیرت کا اظہار کیا ہے جس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ سابق صدر حسنی مبارک سعودی عرب میں موجود ہے حالانکہ مصر میں قائم عبوری فوجی قیادت نے بھی مبارک کی شرم الشیخ میں نظر بندی کا تائید کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ فی الحال سعودی عرب کا سابق صدر کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی رابطہ ہے اور نہ ہی انہیں سعودی عرب میں خوش آمدید کہنے کی پیشکش کی ہے۔

سعودی سفیر نے ان خبروں کی بھی پرزور تردید کی ہے جس میں سعودی عرب پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مبارک کے خلاف مقدمات قائم نہ کرنے کے لئے مصری قیادت پر دباؤ ڈال رہا ہے اور اس سلسلے دھمکیاں دے رے رہاہے۔

لیکن ہماری رپورٹ بھی ضرور دیکھنا:

- حسنی مبارک کو بچانےکے لئے 4 ارب ڈالرز رشوت کی سعودی پیشکش